یکم مئی :مزدور کا بچہ مزدور ہی رہا

تحریر:علی حسنین نقوی/جنبش قلم

سوشل میڈیا پر یوم مزدور کو لیکر مزدور کے حق میں جتنے مرضی شعر کہہ لیں مضامین لکھ لیں لیکن جب تک یہ موجودہ نظام ہے مزدور کی قسمت نہیں بدلےگی۔

پاکستان میں یوم مزدور متعارف کرانے کا سہرا سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جاتاہے۔ایوب خان کے زمانے میں پاکستان میں 22 سرمایہ داروں کا ذکر ہوتا تھا ان میں ایک ایوب خان خود تھا جو گندھارا انڈسٹریز کا مالک تھا۔

30 نومبر1967 کو ذوالفقار علی بھٹو نے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی،1968میں ایوب خان کے خلاف بھٹو نے کامیاب تحریک چلوائی تو سارےپاکستان کے مزدوروں نے ملکر ایک نعرہ لگایا کہ ’’سرمایہ داری مردہ باد‘‘۔بھٹو نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دے کر ملک بھر کے مزدوروں کو اپنے ساتھ ملالیا۔

روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے نے بجائے مزدوروں کی حالت بدلنے کے نعرہ لگانے والوں نے اپنے ہی دور میں صنعتوں، بنکوں، اور دوسرے زرائع پیداوار کو حکومتی کنٹرول میں لیکر مزدوروں کی روٹی چھینی۔

روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے بھٹو صاحب کی بیٹی بینظیر بھٹو دو مرتبہ اورایک مرتبہ اُنکے داماد آصف علی زرداری بھی ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ نعرہ لگاکر برسراقتدار رہے، مگر مزدور کی قسمت نہ۔بدلی اور مزدور پر ظلم۔بڑھتا ہی گیا۔
بھٹو کے بعد ضیاءالحق سے آج عمران خان تک ہرحکومت ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے طور ضرور مناتی ہے، تقاریب اور1886 کے شکاگو کے مزدوروں کو یاد کرکے عام تعطیل کو انجوائے کیا جاتا ہے۔

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ یوم مزدور کی عام تعطیل سے براہ راست متاثر بھی مزدور ہی ہوتے ہیں، دیہاڑی دار مزدور کے گھر چولہا نہیں جلتا ہے ۔کیا کبھی اس طرف بھی سوچا کسی نے کہ جن کا دن منایا جارہا ہے وہ آج کس حالت میں ہیں، اور دن منانے والے کون ہیں؟ دن منانے والوں میں اکثریت انکی ہے جو مزدور کا استحصال کرتے ہیں جو مزدور کو غلام اور نیچ تصور کرتے ہیں، اور سب کی جڑ ہے سرمایہ دارانہ نظام، طبقاتی تقسیم اور سماج کا انسانیت سے دور ہونا ہے ۔جب تک امیر اور غریب دونوں کو برابر کا انسان نہیں مانا جاتا، طاقتور اور کمزور کے الگ الگ قانون، قواعد ضوابط ختم نہیں ہوجاتے،اور ایک عام انسان کی ذہنی غلامی ختم نہیں ہوجاتی، مزدور کا استحصال ہوتا رہے، وہ پستا رہے گا مرتا رہے اور مزدور کا بیٹا مزدور ہی بنے گا۔

مزدور کے قسمت بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ طبقاتی تقسیم، استحصالی اور سرمایہ دارانہ نظام کی جڑیِں کاٹٰی جائیں اور عوامی، سماجی نظام رائج کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں