راجھستان:جے پور میں پھنسے ہوئے کشمیریوں پرپولیس کا تشدد

سری نگر(ساوتھ ایشین وائر) COVID-19 پر قابو پانے کے لئے ڈاون کے دوران ، راجستھان کےعلاقے جے پور میں پھنسے ہوئے کشمیریوں کو مبینہ طور پر پولیس نے “بنیادی اشیا کی خریداری کے لئے” باہر جانے پر پٹائی اور ہراساں کیا۔
شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ کے رہائشی ، الطاف ڈار ، کا دعوی ہے کہ جب وہ منگل کی شام کوراشن لینے نکلا تو پولیس نے اسے پیٹا ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق وہ جے پور کے حسن پورہ میں کیٹرر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

ڈار نے مزید کہا کہ ان کے پچیس افراد پر مشتمل گروپ کے پاس رقم کی کمی تھی اور ان کے پاس ضروری سامان ختم ہو چکا ہے۔ڈار کہتے ہیں ، “جب ہم انہیں کہتے ہیں کہ ہم کشمیر سے ہیں ، تو وہ ہماری بات نہیں سنتے ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے کہا کہ پولیس نے ہمیں بتایا کہ تم دہشت گرد ہو اور راجستھان میں دہشت گردی پھیلا رہے ہو۔”ڈار نے وضاحت کی کہ وہ راشن خریدنے کے لئے اپنے ساتھی کے ساتھ باہر گیا ۔جب پولیس کو پتہ چلا کہ ہم کشمیر سے ہیں ، تو پولیس نے ہمیں پیٹا۔ پولیس کے ساتھ نقاب پوش اور سویلین کپڑوں میں ایک اور شخص نے بھی ہمیں مارا پیٹا۔ڈار کے روم میٹ بلال احمد کا کہنا ہے کہ پولیس کی پٹائی کی وجہ سے وہ بیمار پڑا ہے۔ جب سے مجھے مارا پیٹا گیا میں بستر پر پڑا ہوں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بلال کا کہنا ہے کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں جاسکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں