عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری طویل لاک ڈائون ختم کرائے‘فہیم کیانی

برمنگھم(نمائندہ ورلڈ ویوز اردو) تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی کی قیادت میں تحریک کشمیر برطانیہ کے عہدیداران اور رہنمائوں کی تحریک کشمیر برمنگھم کے صدر قمر عباس کی رہائش گاہ آمد،قمر عباس کی صحت یابی پر محفل شکرانہ،اس خصوصی تقرہب میں تحریک کشمیر یورپ کےڈپٹی سیکرٹری جنرل فریدالدین لودھی،سیکرٹری جنرل برمنگھم شاہ نواز علی حیدر،ڈپٹی سیکرٹری جنرل تحریک کشمیر یوکے لقمان چودھری،صدر سائوتھ زون زاہد اقبال،صدر وٹفورڈ عدنان راجہ،چودھری کیف الاسلام،سینئر صحافی سرفراز موسی چیف ایگزیکٹو بناہ نیوز سمیت تحریک کشمیر برطانیہ کے دیگر عہدیداران،کارکنان اور ذمہ داران نے شرکت کی،تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے تنظیم کے عہدیداران کو اپنے حالیہ دورہ پاکستان و آزاد کشمیر کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیں اپنی جدوجہد مزید تیز اور مربوط بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے

،تحریک کشمیر برطانیہ ویورپ دنیا بھر میں بسنے والے اوورسیز پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی جاندار آواز بن چکی ہے،جو تحریک آزادی کشمیر کے حقیقی مقاصد سے عالمی برادری کو آگاہ کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کے تحت ملنے والی سیاسی خودمختاری کو واپس لینے کے بھارتی حکومت کے اس فیصلے کم و بیش ساری دنیا نے ناپسند کیا تھا، لیکن اتنا وقت گز جاتے کے باوجود کشمیریوں پر عائد کی گئی پابندیاں جوں کی توں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا ایک واضح مقصد یہ ہے کہ وہاں غیر کشمیری بھارتی ہندوئوں کو آباد ہونے کی آئینی اجازت دی جائے تاکہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل کر بھارت پر استصواب رائے کی لٹکتی تلوار کا اثر زائل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے فیصلوں کا سٹریٹیجک، ٹیکنیکل یا آئینی پہلوئوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ آرایس ایس کی ہندو راشٹر سے جڑی نظریاتی پوزیشن ہےجس کا مقصد مسلم اکثریت کو بے اختیار کرنا ہے تاکہ بھارت آبادکاری، ثقافت اور نظام زندگی میں تبدیلی لا کر مقبوضہ وادی کو اپنے مفادات کے رنگ میں رنگ سکے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے اس اقدام کے بعد پاکستان کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر 50 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا، جس میں شرکاء نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی تنازع ہے

یہ ہماری واضح سفارتی کامیابی ہے،اس موقع پر تحریک کشمیر یورپ کے ڈپٹی سیکٹری جنرل فریدالدین لودھی اور شاہ نواز علی حیدر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی میں ساڑھے3 ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہے جب کہ مریضوں کے لیے ادویات بھی ناپید ہوچکی ہیں، ریاستی جبر و تشدد کے نتیجے میں متعدد کشمیری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔تحریک کشمیر برطانیہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل لقمان چودھری اور زاہد اقبال نے کہا کہ وادی کے ساتھ صوبہ جموں میں بھی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھی بھارتی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں جانب کے کشمیری جو کہ کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ شہید اور زخمی ہو رہے ہیں۔موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کوفوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری طویل لاک ڈائون ختم کرے اور عام شہریوں کو بنیادی سہولتیں مہیا کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں