کامران اکمل نے عمر اکمل کو بے قصور قرار دیدیا

کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے معطل کیے جانے والے عمر اکمل کے بڑے بھائی ٹیسٹ کرکٹر کامران اکمل نے کہا ہے کہ عمر میرا بھائی ہے اورمیں جانتا ہوں کہ میرا بھائی ایسا نہیں ہے، پی سی بی معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے امید ہے وہ جلد کلیئر ہوجائے گا۔ کامران اکمل نے پشاور زلمی کی جانب سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیخلاف میچ میں شاندار سنچری سکور کی جس کی بدولت ان کی ٹیم نے ایونٹ میں پہلی کامیابی حاصل کی ہے۔شاندار پرفارمنس کے بعد کامران اکمل سے پریس کانفرنس میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات کا شکار ان کے بھائی عمر اکمل کے بارے میں بھی سوالات ہوئے جس پر کامران کا کہنا تھا کہ عمر اکمل ان کا بھائی ہے، وہ اسے جانتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ عمر ایسا نہیں، ابھی تحقیقات چل رہیں، اگر وہ قصور وار ہوا تو جو کہنا ہے کہہ لیں لیکن ابھی قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔کامران اکمل کا کہنا تھا کہ عمر اکمل اینٹی کرپشن یونٹ سے تعاون کررہا ہے اور امید ہے وہ ایسے ہی کلیئر ہوگا جیسے 10 سال پہلے ہوا تھا۔کامران اکمل نے کہا کہ مسلسل بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہوں، پاکستان کرکٹ ٹیم میں واپسی کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے، ابھی صرف پی ایس ایل پر میرا فوکس ہے، آگے کا نہیں سوچ رہا، میچ کے لیے مینٹور ہاشم آملہ نے پلاننگ کی اور اس پر میں نے عمل کرکے اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی، میری کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم کے لیے پرفارم کروں اور اللہ نے سنچری کرادی، سلیکٹرز کی مرضی ہے جسے چاہیں سلیکٹ کریں، ہمارا کام پرفارم کرنا ہے، نئے کوچ اور نئے سلیکٹر آئے ہیں، اب دیکھتے ہیں پی ایس ایل کے بعد کیا ہوتا ہے۔کرکٹر نے کہا کہ میچ میں پاور پلے کو صحیح استعمال کرنا تھا اسی لیے تیز کھیلا، وہاب ریاض اور سرفراز بہت اچھے دوست ہیں، کھیل میں کبھی کبھار تلخی ہوجاتی ہے، پہلی سلیکشن کمیٹی سے بھی کوئی مسئلہ نہیں، انہوں نے کس کو منتخب کیا اپنے حساب سے صحیح کیا ہوگا،بھارت کے خلاف سینچری آج بھی میری یادگار سینچری ہے۔کامران اکمل نے کہا کہ زلمی میں بڑے بڑے کھلاڑی ہیں، نوجوانوں کو سیکھنے کا موقع ملے گا، انٹرنیشنل کرکٹ میں سنچری بنانے کا الگ مزا ہے، پاکستان کے لیے جو رول ملے گا وہ قبول ہے، میڈیا یہ نہ چلائے کہ عمر اکمل کو کیا آفر ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیرن سیمی کی پاکستان کے لیے بہت خدمات ہیں کیوں کہ ڈیرن اس وقت پاکستان آئے جب کوئی بھی پاکستان آنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں