زندہ لاشیں. تحریر سعدیہ طارق

زندہ لاشیں۔
تحریر. سعدیہ طارق
نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بدو حاضر ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے ، یا رسول اللہ کیا میں بھی بخش دیا جاؤں گا، میں نے ایک ایسا گناہ کیا ہے کہ مجھے معافی کی امید نہیں۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے استفسار پر اس نے بتایا کے کیسے اس نے اپنی معصوم بچی کو زندہ دفن کردیا تھا۔ روایت ہے کے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اتنا روئے کہ دارڈھی بھیگ گئی اور ہچکی بندھ گئی۔
میں سوچتی ہوں کتنی خوش قسمت تھی وہ کے اس کے لیے نبی اکرم روئے مگر ہر بچی اتنی خوش قسمت کہاں آج بھی دور جہالت کی رسم نبھائی جاتی ہے آج بھی صنف نازک کو زندہ درگور کیا جاتا ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا زندہ درگور صرف وہی ہوتی ہیں جنکو زمین میں گاڑ دیا جائے؟اور انکا کیا جنہیں ونی میں دے دیا جاتا ہے کہ قاتل بھائی کی جان بہت قیمتی ہے ۔
انکا کیا جنکی آبرو تار تار کردی جاتی ہے اور پھر معاشرے کے ڈر سے کوئی انکے حق کے لیے آواز بھی نہیں اٹھاتا۔انکا کیا جنہیں یہ کہہ کر رخصت کیا جاتا ہے کہ جہاں ڈولی جا رہی وہاں سے جنازہ ہی نکلے گا۔اور انکا کیا جو رزق کی تلاش میں گھر سے نکلتی ہیں اور شام کو جنس مخالف کی چبھتی نظروں سے چھلنی بدن لیے گھر لوٹتی ہیں ۔کہنے کو تو صنف نازک ہے مگر جب تک سانس لیتی ہے وہ کچھ سہتی ہے کہ کوئی مائی کا لعل سہہ کر تو دیکھائے۔ کبھی تصور کیا ہے اس معصوم کا جو کے ونی ہو کے اس گھر میں جاتی ہے جس کا کوی کڑیل جوان اس بچی کے باپ، بھائی کے اندھے غصے کی بھینٹ چڑھ چکا ہوتا ہے۔ کیسے روز سسک سسک کے جیتی ہے اور  تڑپ تڑپ کے مرتی ہے. بلکل ویسے ہی نا جیسے جہنم میں گناہ گاروں کو جلایا جائے گا اور انکی کھال جسم سے الگ ہو جائے گی، ہڈیاں راکھ کا ڈھیر بن جائیں گی اور رب العالمین ان میں پھر سے جان ڈالیں گے تاکہ ایک بار پھر جلایا جا سکے۔ کوی فرق نہیں بجز اس کے کہ جہنم میں ڈالے جانے والے کو اپنا گناہ معلوم ہوتا ہے،وہ جانتا ہے کہ اسکی سزا کس خطا کے لیے ہے۔جہنم کی آگ کی جلن تو وہ بھی محسوس کرتی ہوگی جس کے جسم کو کسی کے غلیظ ہاتھوں نے نوچا ہو، ہر ہر عضو کسی نامحرم کے ناپسندیدہ لمس سے سلگتا ہو گا اور تذلیل کا نا ختم ہونے والا  احساس تن من جلاتا ہو گا.کسی کے نام کے دو بول پڑھ کے اپنے سارے رشتے چھوڑ آنے والی کا دکھ سب سے نرالا ہے، وہ جن ہاتھوں  سے تحفظ کی امید لگائے ہوتی ہے وہی ہاتھ اپنی مردانگی کی مہر لگاتے ہیں اور انگاروں جیسے جلتے داغوں کو دوپٹے سے چھپائے دکھتے بدن نم آنکھوں اور ہونٹوں پر جھوٹی مسکان لیے دن کو رات کرتی رات کو دن کرتی بس اس انتظار میں رہتی ہے کہ کب روح کا پرندہ بدن کی کوٹھڑی کو خالی کرے اور اس جسم کو حوالہ گور کرنے کی رسم نبھائی جائے ۔
کتنا کڑوا سچ ہے کہ پگڑیوں والوں کے غلط فیصلوں کا بوجھ دوپٹوں والیاں اٹھاتی ہیں۔زندہ درگور کرنا تو محض ایک علامت ہے، ورنہ ہمارے اردگرد بہت سی ایسی زندہ لاشیں ہیں ،جن کے لیے کوئی رونے والا تو کجا کوئی ان کے ساتھ ہوئے ظلم کا ذکر کرنے والا بھی نہیں ملتا۔کیا ایسا نہیں ہوسکتا کے ہم رسول اللہ کے احکامات کو مانتے ہوئے اگر عورت کو بحیثیت انسان اس کے حقوق نہیں دیے جا سکتے تو کم از کم رسول اللہ کی سنت سمجھتے ہوئے ان مظلوموں کے لیے آنسو ہی بہا لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں