یوم استحصال

تحریر: اورنگزیب اعوان
حکومت پاکستان نے 5 اگست 2020 کویوم استحصال منانے کا اعلان کیا ہے. جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر پر انڈیا کی جانب سے غیر قانونی طریقہ سے آرٹیکل 370 کو معطل کرکے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر جانے پر پوری دنیا کو اپنے طرز عمل سے باور کروانا ہے. کہ ہم بحیثیت پاکستانی قوم ہر طرح سے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں. ہم پہلے بھی مقبوضہ کشمیر کی نہتی عوام کے حق آزادی کے لیے آواز بلند کرتے تھے. مگر اب اس عمل میں شدت لاتے ہوئے. ساری دنیا میں انڈیا کے مکروہ چہرہ کو بے نقاب کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی. کیونکہ انڈیا کے انتہا پسند ہندو کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ بھارت میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو خطرہ لاحق ہے. ہندو انتہا پسند پورے بھارت میں ہندو راج مسلط کرنا چاہتے ہیں. اس مقصد کے اصول کے لیے انہوں نے تمام مذاہب کے لوگوں کے لئے بھارت کی سرزمین کو تنگ کرکے رکھ دیا ہے. ہندو دیگر مذاہب کے لوگوں کومکمل آزادی سے اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں. ان کی اسی انتہا پسندانہ سوچ کی بدولت تمام مذاہب کے لوگ خود کو اس ملک میں غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں. آج ہم جس مہذہب دنیا سے انصاف کی امید وابستہ کیے ہوئے ہیں. یہ سب کیا دھرہ اسی کا ہے. ان طاقتوں نے پہلے دن سے ہی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا تھا. اس لیے انہوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس کے باوجود کو ختم کرنے کے لیے مسلم اکثریت والے علاقوں کو بھارت میں غیر قانونی طریقہ سے شامل کر دیا . جس کی وجہ سےدو نو وارد ممالک کے درمیان شروع دن سے ہی کشیدگی پیدا ہوگئی. جس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے. اس وقت دونوں ممالک ایٹمی طاقت کے حامل ہیں.ان دونوں کے درمیان ایک ہلکی سی چنگاری پوری دنیا کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے. دنیا بھر کا امن ان دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے تنازعات کے پر امن حل پر منحصر ہے. اگر دنیا نے اس حقیقت کو نہ پہچانا تو بہت دیر ہوجائے گی. پھر سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا. پاکستانی قوم کا پیمانہ ضبطِ اس وقت انتہا کو پہچ چکا ہے.جس دن اس کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا. پوری دنیا میں سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہو گا. حکومت پاکستان نے اس نازک وقت میں بہت ہی اچھا اقدام اٹھایا ہے جو اس نے 5 اگست کو یوم استحصال منانے کا اعلان کیا ہے. اس اقدام سے انڈیا کی عیاری کو دنیا پر عیاں کرنے میں مدد ملے گی. اور کشمیری قوم جس کو ایک سال سے گھروں میں محصور کیا ہوا ہے. ان کی آواز بھی دنیا تک پہچ پائے گی. مگر شاید اب وقت باتوں کی بجائے عملی اقدام کرنے کا آگیا ہے. کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے. اس سے پہلے بھی ہم ہر سال 5فروری کو یوم کشمیر کے طور پر مناتے ہیں. جس سے انڈیا سمیت دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑتا. اس کی بنیادی وجہ اہل کفر کا اسلام کے پھیلاؤ سے خوف زدہ ہونا ہے. انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم سب مذاہب مل کر بھی دین اسلام کا مقابلہ نہیں کرسکتے. یہ ایک سچا مذہب ہے. جس میں تمام شعبہ زندگی کے بارے میں مکمل راہنمائی فراہم کی گئی ہے. جب کہ ہمارے مذاہب محض علاقائی سطح کے حامل ہیں. اگر مسلم امہ کو دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام و وقار پھر سے حاصل کرنا ہے. تو اسے جہاد کا راستہ اختیار کرنا ہو گا. اس کے سوا اور کوئی بھی طریقہ مسلم امہ کو عظمت و بلندی کے مقام پر نہیں پہنچا سکتا. موجودہ حکومت بھی دنیاوی مجبوریوں میں پھنسی ہوئی ہے. ایک طرف تو یہ یوم استحصال منا رہی ہے. دوسری طرف FATF کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کی بدولت گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ملکی قوانین میں مزید سختیاں کر رہی ہیں. اس قانون کے تحت کسی بھی قسم کی جہادی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو نوے دن کے لیے بغیر کسی روک ٹوک کے قید میں رکھا جا سکتا ہے. جو آئین پاکستان میں دئیے گئے بنیادی حقوق کی منافی کرتا ہے. اگر حکومت غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے جہاد کا فریضہ ادا کرنے والوں کو ہی دہشت گرد قرار دے کر ان کے ساتھ نازیبا سلوک کرے گی تو پھر کون جہاد کے راستے پر گامزن ہو گا. حافظ سعید احمد امیر جماعت الدعوۃجو کہ پیشہ کے لحاظ سے پروفیسر ہے. وہ اپنی زندگی تدریس کا فریضہ سر انجام دے کر ہنسی خوشی گزار رہے تھے. مگر جب انہوں نے انڈیا کی جانب سے نہتے اور مظلوم عوام پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹتے دیکھے تو اپنے شعبہ کو خیر باد کہہ کر جہاد کے سنگلاخ و دشوار گزار راستوں پر چلنے کا اعادہ کیا. جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ کامیابیوں سے نوازا. انتہائی قلیل عرصہ میں ان کے کارواں میں ملک بھر سے نوجوان جوق در جوق شامل ہونا شروع ہوگئے. ان کی جماعت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی مدد شروع کردی. ان اللہ کے شیروں کی دہشت و خوف اس قدر انڈین فوج اور حکومت پر طاری ہوا کہ وہ ان کا نام سن کر ہی ڈر جاتی ہے. مگر ہم نے انہیں بھی قید کیا ہوا ہے. اگر ایک سچا مسلمان پورے بھارت پر لرزا طاری کر سکتا ہے. تو سوچے کہ اگر بائیس کروڑ مسلمان یک جان ہوکر جہاد کا اعلان کرے تو بھارت کے بزدل ہندو ویسے ہی ان کی دہشت سے مر جائے گے. ضرورت اس وقت صرف اور صرف قومی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے. مکار دشمن کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ہے. باتوں اور احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہو گا. اگر ہم اپنی ایک شاہراہ کا نام کشمیر ہائے وے کی بجائے سرینگر ہائے وے رکھ لے اور پانچ منٹ کی خاموشی اختیار کر لے تو اس فعل سے اس کے کان پر کون سی جو رینگے گی. یہ سب کچھ اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے اچھا ہے. کہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا. وزیر خارجہ پاکستان یہ پیری مریدی نہیں ہے. جس میں مرید کو کہے کہ دس منٹ تک زبان بندی کرنی ہے. پھر دیکھنا کہ تمھاری دلی مراد پوری ہوجائے گی. شاید ہو بھی جاتی ہو. مگر یہاں ہمارا مقابلہ ایک مکار دشمن سے ہے جو زبان کی بات نہیں مان رہا. خاموشی کی کیا مانے گا. اس کو تو صرف اور صرف ٹانگوں کی زبان سمجھ آتی ہے. اس لیے اس کو اسی کی زبان میں سمجھنا ہوگا. ہم نے صدا اس دنیا میں زندہ نہیں رہنا تو پھر مرنے سے کیوں ڈرتے ہیں. آئیے آگے بڑھ کر باعزت موت کو گلے لگائے اور شہادت کا درجہ حاصل کرکے اللہ کے حضور حاضر ہو. موجودہ حکومت اور سابق حکومتوں کی نیت پر کوئی بھی پاکستانی شک نہیں کرسکتا کیونکہ ہم سب محب وطن لوگ ہیں. مگر ہماری دنیاوی مجبوریاں ہمارے آڑے آ جاتیں ہیں. ہم نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو کسی بھی طرح سے ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوتے. آج سے کچھ عرصہ قبل بھارت سلامتی کونسل کا ممبر بنا جس میں اسے بھاری اکثریت سے ووٹ ملے. اس وقت ہم لوگ خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے. کیونکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ اس فعل سے ہمارے تعلقات اس سے اچھے ہوجائے گے. اسی طرح بھارت کے الیکشن کے موقع پر ہمارے وزیراعظم پاکستان عمران خان نریندر مودی کی جیت ک خواہاں تھے. بلکہ وہ تو اس کی الیکشن کمپین چلا رہے تھے. انہیں بھی امید تھی کہ نریندر مودی سے ان کے تعلقات بہتر ہو جائے گے. اور وہ اس سے مسئلہ کشمیر حل کروا لے گے. مگر سب تدبیریں الٹی پڑ گئیں. آج پھرسے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر احتجاج کروایا جا رہا ہے. جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا. دوسری طرف ہم لوگ انڈین جاسوس کلبھوشن کو رہا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں. حکومت وقت کا ہرایک وزیر اپنی کارگردگی اچھی دکھانے کے چکر میں لگا ہوا ہے. وزیر خارجہ نے بھی اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے یوم استحصال منانے کا اعلان کیا ہے. یہ سب اپنی سیاست کو چمکانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں. انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان اقدامات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا. اگر ہمارے حکمران واقع ہی کشمیر کو آزاد کروانے میں سنجیدہ ہے. تو انہیں عملی اقدامات اٹھانے ہو گے. زبانی بیان بازی اور احتجاج کرنے سے کچھ نہیں ہوگا.

اپنا تبصرہ بھیجیں