بارشوں سے نقصانات، بچاؤ کا میکنزم کہاں ہے؟

تحریر: علی رضا بخاری۔ ایم ایل اے

مون سون کے بعد ستمبر کی جاری مسلسل بارشیں،آزاد کشمیر،سندھ ، پنجاب اور خیبر پختون خوا کے علاقوں میں بھاری جانی ومالی نقصان کا سبب بن رہی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ہندوستان نے دریائے راوی،چناب ،جہلم اور نیلم میں پاکستان کو خبردار کیے بغیر پانی چھوڑ رکھا ہے۔ جس سے منگلا ڈیم بھر جانے بعد اضافی پانی جھوٹا جارہا ہے۔ آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں ،کراچی ،لاہور اور دیگر مقامات پر عوام امدادی سرگرمیوں کے منتظر ہیں ، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھیں بے یارومددگارچھوڑ دیا گیا ہے، ایل او سی کے قریب بسنے والے ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو مفلوج ہونے سے بچانے کے لئے وافر مقدار میں غذائی اشیا کی دستیابی کو یقینی بنایا جانا چاہے۔ اس ہفتے کی بارشوں سےبالخصوص کوٹلی کے اندر سیلابی پانی دکانوں کے اندر داخل ہونے سے تاجروں کا اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں کچے مکانات گر گئے ہیں مگر انتظامیہ کی طرف کوئی امدادی کارروائی شروع نہیں ہوئی۔ جو کہ افسوس ناک امر ہے۔

موجودہ بارشوں سے جس بڑے پیمانے پر تباہی ہورہی ہے،اس کی روک تھام کے لیے ناکافی قابل افسوس ہیں ۔کوئی پلاننگ نہیں کی گئی ہے، صرف انتظامیہ کبوترکی طرح خطرے کے وقت آنکھیں بند کر لیتی ہے۔آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں،اسلام آباد ، راولپنڈی اور لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں طوفانی بارش سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا اور درجنوں افراد جان کی بازی ہارگئے۔ محکمہ موسمیات نے فلڈ الرٹ ایڈوائزی جاری کردی ہے۔
خیبرپختون خواہ کے چھوٹے بڑے شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ پشاور، پارا چنار، بونیر، واڑی، شانگلہ، سوات، مینگورہ پاراچنار،کرم اور سوات میں بارانی ندی نالوں میں طغیانی سے کچے مکانات گرگئے اور آمدورفت کے راستے بند ہوگئے، مختلف واقعات میں 22 افراد زخمی ہو گئے۔ لاہور جیسے جدید شہر میں صورتحال خاصی ابتر رہی ، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتی رہیں۔
لیسکوکے 180 فیڈر ٹرپ کرگئے جس سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔سیالکوٹ، ڈسکہ،گوجرانوالہ ،چیچہ وطنی، کوٹ رادھاکشن، واربرٹن، کالاشاہ کاکو، شیخوپورہ، مریدکے، فاروق آباد، نارنگ منڈی، فیروزوالہ، شاہدرہ، جلالپورجٹاں میں بھی گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی۔ راولپنڈی، اسلام آباد میں دریائے سواں اور نالہ لئی میں طغیانی سے متعدد نشیبی علاقے زیرآب آگئے، نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا ، ایک گھرکے تہہ خانے میں 9 افراد سو رہے تھے جس میں 7کو زندہ نکال لیا گیا۔
دوسری جانب ملک کے بالائی حصوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب آسکتے ہیں، سیلابوں کا سلسلہ دریائے کابل اور اس سے ملحقہ ندی نالوں سے شروع ہوگا، منگلا کے مقام پر بڑے سیلابی ریلے کی پیش گوئی کی گئی ہے، دریا چناب، دریا سندھ، تربیلا کے مقام پر بھی شدید سیلاب آسکتے ہیں۔
کراچی میں ڈی ایچ اے سمیت مختلف علاقوں میں کزشتہ چار دن سے سیلابی صورتحال ہے اور اب بھی سیاہ بادلوں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں کچرے سے بھرے 550 برساتی نالے ہیں اور ایک بارش سے شہر ڈوبنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔بیشتر برساتی نالوں پر عمارتیں قائم ہیں۔
دریائے سندھ میں راجن پورکے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔کچے کے علاقوں میں پانی داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں  دنیا بھر میں آرہی ہیں، جس لندن اور پیرس میں خوف برفباری ہوتی تھی وہاں اب درجہ حرارت بیالیس درجہ سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان و آزاد کشمیر میں ساری صورتحال کو جاننے کے بعد اس بات کا دکھ شدید تر ہوجاتا ہے کہ حکومت کے تمام اداروں میں فرائض سے غفلت برتنے کی عادت پختہ ہوچلی ہے،کیونکہ ان کی کوئی باز پرس نہیں ہوتی ہے لہذا عوام صرف مرنے کے لیے رہ گئے ہیں، بے حسی کا یہ عالم ہے کہ لوگ مر رہے ہیں اورحکومت اس کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی ہیں۔ ہمیں جنگی بنیادوں پر حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے ہونگے کیونکہ شدید بارشوں کے بعد سیلابوں کا خطرہ سر پر منڈلارہا ہے۔ عوام اور حکومت مل کر ہی ان خطرات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں پاک فوج کے جوان رات دن لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مصروف ہیں -عوام کو چاہیے کہ وہ پانی کی نکاسی کے نالوں پر تجاوزات کرنے ،غیر قانونی تعمیرات اور کچرا پھینک کر انھیں بند کرنے سے گریز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں