شرم تم کو مگر نہیں آتی

تحریر :ارشد میر
کشمیریوں نے ایک بار پھر بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر مناکرنہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر پر واضع کردیا کہ انھیں 27 اکتوبر 1947 سے ہی بھارتی عملداری قبول نہیں ہے وہ اسے جابرانہ تسلط سمجھتے ہیں اور اسکے خاتمہ کے لئے اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے خواہ حالات کیسے بھی ہوں اور لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے مزید کتنی ہی قربانیاں دینا پڑیں ، گریز نہ کیا جائے گا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طورپرمناکر اقوام عالم اور بھارت پر واضح کردیا کہ وہ بھارت کے جبری قبضے کو کسی صورت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں بلکہ حصول حق خودارادیت تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔ جذبات اور مذہب اور تہذیب و تمدن کے فرق کو ایک طرف رکھنے کے باوجود بھی کشمیریوں کے پاس اس یا بھارت کے کسی بھی قومی دن کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی سینکڑوں وجوہات ہیں۔ یہ ایک اور ریفرنڈم تھا اور بھارت کا وطنی جنونیت سے آزاد ہر وہ باشعور شہری جس کو ملک کےوقار کا حقیقی معنیٰ میں خیال ہے کو یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہونا چاہئے کہ کشمیریوں کی یہ فقیدالثا ل ہڑتال بھی بھارت کے خلاف کسی ریفرنڈم سے کم نہ تھی اور قومی غیرت کا تقاضا یہی ہے کہ اسکو اسی تناظر میں لیا جائے۔ مگر بھارتی حکمرانوں ،میڈیا اور دیگر حلقوں نے ایک بار پھر انتہاء درجہ کی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 8 لاکھ فوج کے ذریعہ کشمیریوں کی زبان بندی اور نقل وحرکت پر پابندیوں کو امن سے تعبیرکیا اور لالچوک کے گھنٹہ گھر کی 2010 کی ایک تصویر کو فوٹو شاپ کے ذریعہ تبدیل کرکے اس پر بھارتی ترنگا لہرا تا دکھا کر پورے بھارت میں پھیلا دیا۔ یہ کام کسی عام بھارتی شہری نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے ایک رکن نے کیا۔ لداخ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جم یانگ سیرنگ نمگیال نے ٹویٹر پر یہ تصویر شیئر کی ۔نمگیال نے لکھاکہ “لال چوک سرینگر جو خاندانی سیاست دانوں اور جہادی قوتوں کے لیے بھارت مخالف مہم کا مرکزبنا ہواتھا اب وہ ہندو قوم پرستی کا تاج بن چکا ہے”۔ اس جعلی تصویر کو پھیلانے سے انھیں انکی جماعت اور ملک کو حاصل ہونے والی سبکی اور ذلت سے بے پرواہ ہوکر نمگیال مودی کی خوشامد کے جوش میں آگے بڑھتے اور لکھتے گئے کہ “مودی ہے تو ممکن ہے اور نریندر مودی اور امیت شاہ کو منتخب کرنے کے لئے میرے ہم وطنوں کا شکریہ”۔نمگیال کے بعد بی جے پی کے ایک اور رہنما کپل مشرا نے بھی ہفتے کی شام اسی طرح کی تصویر شیئر کی۔ مشرا نے اس تصویر کو ٹویٹ کرتے ہوئے فاتحانہ انداز میں لکھا ”لال چوک پر ترنگا“۔
اس پر سوائے اسکے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ کشمیری مقولہ ہے کہ ڈھیٹ اور بے شرم کے ہاں مولی بھردی گئی تھی تاکہ اسکے اندرشرمندگی کا احساس پیدا ہو مگر الٹا اس نے وہ نکال کر کھالی ۔ یہ مقولہ آج بی جے پی کے اِن تما م گینگسٹروں ، میڈیا، انوپم کھیر اور انکی اہلیہ جیسے اداکاروں اور جنونیت میں اپنے ہی ملک کے لئے ذلتیں کمانے والے بھارتیوں کے اوپر مکمل طور پر صادق آتا ہے۔یہ تصویر دراصل اگست 2010 میں ایک صحافی مبشر مشتاق نے”پیراڈائز لاسٹ “ کے عنوان سے ایک مضمون میں اپ لوڈ کی تھی۔ چانکیا کے چیلوں نے اس تصویر میں بھارتی پرچم کا اضافہ کیا ہے حالانکہ تصویر میں نظر آنیوالی کئی عمارتیں اب تبدیل ہوچکی ہیں۔
اس سے بڑا کیا ثبوت چاہئے کہ جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط صرف جھوٹ اور ظلم ہی کی بیساکھیوں پر قائم ہے۔ اس بار تو یہ ریفرنڈم اس اعتبار سے کچھ زیادہ ہی کھلا اور ہمہ گیر تھا کہ نام نہاد اور کھوکھلی قسم کی سرکاری تقاریب میں کوئی بھارت نواز بھی شریک نہ تھا۔بلکہ انھوں نے نہ صرف روایتی مبارکباددینے سے گریز کیا بلکہ بعض نے یوم آزادی کی تقریبات منعقد نہ ہونے پر مذاق بھی اڑایا۔ بھارت کے انگریزی روزنامہ دی ٹیلی گراف کے مطابق اس نے وادی کشمیر کے قریب دو درجن سینئرسیاستدانوں جن میں عمر عبد اللہ ، محبوبہ مفتی اور کانگریس کے رہنماوں ،جیسے غلام نبی آزاد اور غلام احمد میر کے ٹویٹر ہینڈل چیک کئے۔ کسی پر بھی مبارکبادکے الفاظ نہیں تھے۔اخبار نے لکھا کہ کچھ لوگوں نے یوم آزادی کی تقریبات میں صرف غیر کشمیریوں کی شرکت اور ان کی قلیل تعداد کا مذاق اڑایا۔ نیشنل کانفرنس کے لوک سبھا کے رکن محمد اکبر لون نے اس طرزعمل کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تقریبات سے دور رہے کیونکہ وہ 15 اگست کو اپنا یوم آزادی نہیں مانتے۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق بھارت نواز سیاست دانوں نے یہ رویہ گزشتہ سال جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کے لئے اختیار کیا۔
حقیقتا یہ خالی خولی غم و غصہ نہیں، یہ وقت کی بدترین مار کا اظہار ہے۔ یہ سات دہائیوں سےتین نسلوں تک بھارت کے جابرانہ تسلط اور بدترین جرائم کو جمہوری پردہ فراہم کرنے کی خدمات کے بعد زمین پر پٹخے جانے کی صورت میں پیدا ہونیوالے احساس کا اظہار ہے۔ فاروق عبد اللہ اور محبوبہ مفتی دونوں برملا طور پر کہہ چکے ہیں کہ اُن اور اُنکے کے بزرگوں نے دوقومی نطریہ چھوڑ کر بھارت کے نام نہاد سکیولرازام کا ساتھ دینے کی بہت بڑی غلطی کی۔ عمر عبداللہ نے بانڈین ایکسپریس کو انٹریو میں اعتراف کیا کہ انکے ساتھ بھارتی حکومت کے اس سلوک پر کشمیری عوام خوش ہیں اور اسے مکافات عمل سمجھتے ہیں ۔ عمر عبداللہ کی زبانی گویا بھارتی بیانئے کی وہ 70 سالہ عمارت بھی گر گئی جس میں کہا جاتا تھا کہ کشمیری بھارت نوازوں کے ساتھ ہیں ۔ اس اعتراف سے گویا آج تک کے نام نہاد انتخابات اور ان کے ذریعہ سجائی گئی اسمبلیوں کی وقتر بھی سامنے آگئی۔
کیا بھارتی لمحہ بھر کے لئے نہیں سوچتے کہ جس حقیقت کے سامنے انھیں اپنے منہ چھپاتے ہوئے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے اس کو وہ اپنی کامیابی اور فخر کے طور پر لیتے ہیں؟ کیا وہ اس طرح اپنے ہی ملک کی توہین نہیں کر رہے؟ اور بھی اسکی آزادی کے دن ؟ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر کی گئی ہڑتال نے ایک بار پھر کشمیریوں کی قابض بھارت پر ہمالیا ئی حجم کی اخلاقی، قانونی اورانسانی برتری کی تصدیق کی اور یہ بھی ثابت کیا کہ بھارت 73 برسوں میں سب کچھ آزمانے کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر میں پاؤں رکنےی کی جگہ تک حاصل نہ کرپایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں