اخلاقی تربیت وقت کی ضرورت

تحریر. صائقہ رحیم
کسی بھی معاشرے کے زوال کا اندازہ لگانے کے لئے اس کی اخلاقی اقدار کا تجزیہ کیا جاتا ہے پاکستان میں اخلاقی اقدار کامیاب زندگی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں صرف وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو بدعنوان ہیں ایسے لوگ رول ماڈل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ہیں اور نتیجتاً معاشرتی مسائل عروج پر پہنچ گئے ہیں.تاجر ناقص مصنوعات مصنوعات فروخت کر رہے ہیں.ڈاکٹر مریض بھاری فیسیں وصول کر رہے ہیں جن کے لئے دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہے ان پیسے کما رہے ہیں. تعلیمی ادارے غیر معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں ادب فلسفہ اور معاشرتی سائنس کے شعبے میں نت نئے تصورات پیش کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہماری فکری سوچ دیوالیہ ہو چکی ہے.معاشرہ غیر ملکی فنون ادب اور ثقافت کا ذہنی غلام بن چکا ہے افراد اپنے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں ناکام ہیں. کمزور اخلاقی رویے معاشرے میں انتشار پیدا کر رہے ہیں. کسی بھی قسم کی مذہبی  تعلیمات یا قانون ان اخلاقی اقدار کے اطلاق کو ممکن نہیں بنا سکتا نئی نسل ذہنی الجھن کا شکار ہے.صحیح اور غلط میں فرق کرنے سے قاصر ہے.اس کی ایک اہم وجہ متوازن نظام تعلیم کا نہ ہونا ہے. آزادی سے لے کر آج تک صحیح نظام تعلیم بنایا ہی نہیں جو تعلیمی نظام ذہنی ترقی کو ممکن بناتا ہے.غور و فکر، مشاہدہ اور تجربہ کے بجائے طلباء کو رٹے کا سبق دیا جاتا ہے حصول تعلیم کا مقصد تعمیر انسانی کے بجائے محض مارک شیٹ ہے. طلباء علم نہیں محض ڈگری حاصل کرنے کے لیے تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں پھر ان پر تعلیم کا کوئی اثر نہیں ہوتا وہ معاشرے کے لیے ناسور بن جاتے ہیں.تعلیم کے حصول کے لیے اساتذۂ کا قابل ہونا بھی بے حد ضروری ہے اساتذہ وہ نہیں جو محض چند کلاسیں لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہو جائیں بلکہ وہ ہیں جو عملی نمونے کے ذریعے طلبہ کی اخلاقی تربیت بھی کریں لیکن آج مخلوط تعلیمی اداروں کی وجہ سے اکثر مرد و خواتین اساتذہ آپس میں افئیر چلاتے نظر آتے ہیں.جن کا معصوم طلباء کے ذہنوں پر برا اثر پڑتا ہے دوسری طرف آج کے اساتذہ  مادہ پرست ہو چکے ہیں ان کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے نا کہ طلباء کی کردار سازی ہے اور نا ہی  انہیں کوئی غرض ہے.ماضی میں ہماری درسگاہوں اور اساتذہ کو ایک مقام حاصل تھا پوری دنیا ان سے استفادہ کرتی تھیں ان اداروں کی بدولت مختلف شعبہ ہائے جات میں ایجادات ہوئیں.انکی ایجادات اور تحقیقات کو آج بھی دنیا تسلیم کرتی ہے کیونکہ اس وقت کے اساتذہ غور و فکر میں آزاد تھے. لیکن آج کل کے ادارے لکیر کے فقیر ہیں.وہ صرف حکومتی نصاب پر عمل پیرا ہونے کے لیے مجبور ہیں. یہ بھی حقیقت ہے کہ اب ہمارا تعلیمی نصاب مغربی مصنفین کی کتابوں کا خلاصہ ہے.اس کے باوجود ان ممالک کی طرح ہم نے نا تو مادی لحاظ سے اور نہ ہی اخلاقی لحاظ سے ترقی کی ہے. کیونکہ ہمارے ملک میں ان مضامین کو کوئی اہمیت نہیں جن کا تعلق معاشرے اور انسانی سوچ سے ہے. یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مجرمانہ سرگرمیاں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں. تعلیمی نظام میں نصاب کی حیثیت روح کا درجہ رکھتی ہے ہمیں اپنے نصاب کی تشکیل اسلامی بنیادوں پر رکھنے کی ضرورت ہے اسلام ایک مکمل دین اور تاحیات ہے اس کا اپنا طرز معاشرت اور طرز سیاست ہے. دنیا کی تمام تہذیبیں نفس پرستی کے علمبردار ہیں اسلامی تہذیب خدائی احکامات کے تابع ہے اس لیے اسلامی تہذیب کو دوسری تہذیبوں میں ضم نہیں کیا جا سکتا.اور نا ہی اس میں کسی دوسری تہذیب کا پیوند لگ سکتا ہے.پاکستان میں تعلیمی نصاب سے مذہبی مواد نکال کر ایسا نظام تعلیم رائج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے مغرب سے مرعوب زدہ اپنے مذہب سے بے بہرہ اپنی تاریخ سے شرمندہ نسل کو پروان چڑھایا جائے تاکہ پاکستان میں سیکولر ازم کا نفاذ یقینی بنایا جا سکے. ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے مواد کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے جو طلباء کی ذہنی ترقی کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی کرے ہمارے پاس ماضی کے مصنفین کی کتابیں ایک وسیع ذخیرہ کے طور پر موجود ہیں جن سے استفادہ کرکے ایک متوازن نصاب تشکیل دیا جا سکتا ہے.سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے اس لیے جدید علوم کا حصول بھی ضروری ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ بچوں میں انسانیت سے پیار خداترسی عبادت ایثار خلق خدا کی خدمت برداشت جذبات کی بھی اشد ضرورت ہے. مادہ پرستانہ اور سیکولرنظام تعلیم کے بجائے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو سامنے رکھ کر ایسا نظام تعلیم وضع کرنا چاہیے جو قرون اولا جیسا مثالی معاشرہ قائم کر سکے اور افراد اور معاشرے کے درمیان پل کا کام کرے.

اپنا تبصرہ بھیجیں