بھارت سے مذاکرات کی بھیک نہیں، دو ٹوک الفاظ میں بات کرنا ہوگی ‘عنبرین ترک

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سیکرٹری اطلاعات انصاف ویمن ونگ، آزادکشمیر نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کیے جانے والے لاک ڈاون کو ایک سال بیت جانے پر اپنے بیان میں شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو کے نفاذ ، کشمیریوں کی نقل وحرکت پر پابندی مقبوضہ وادی کشمیرمیں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ غیرانسانی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی بندش کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے
متنازعہ بل کے نفاذ کے ساتھ جہاں مقبوضہ کشمیر کا کشمیری اپنے پرچم اور آئین سے محروم ہو چکا ہے وہاں کرونا وبا کی وجہ سے حا لاتِ زندگی بدترین ہیں سڑکیں سنسان ہیں، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی مراکز بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور ایک کروڑ سے زائد افراد دنیا کی سب سے بڑی جیل میں مقید ہیں
جبکہ Civid 19 نے جہاں ساری دنیا کو لاک ڈاون کا حقیقی مطلب سمجھایا ہے وہیں ہہلے سے مشکل ذدہ کشمیری بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے
عنبریں ترک نے عالمی برادری کے کردار پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ
عالمی برادری کا منافقانہ رویہ قابلِ مذمت ہے کہ شام میں جو حکمتِ عملی قابلِ عمل ہے وہ کشمیر میں ناجائز قرار دی جاتی ہے کیونکہ علاقائی اور عالمی قوتیں شام میں باغیوں کو مالی مدد اور ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے اسد حکومت کے خلاف لڑا رہی ہیں- اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شام میں ما لی اور عسکری مدد ان کے لئے جائز ہے جبکہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے مظالم کے خلاف مزاحمت اور اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھانے والے نوجوان برہان وانی کو دہشت گرد قرار دے کر نا صرف شہید کر دیا جاتا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر اور متعلقہ مواد کو بین کر دیا جاتا ہے
انہوں نے مذید کہا کہ
اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بھارت کشمیر میں استصواب رائے کروانے کا ذمہ دار ہے لیکن بھارت کو امریکی حمایت نے اس معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیا جاتا ہے کونکہ عالمی دنیا کے لیئے عالمی منڈی انسانوں جانوں اور آذادی سے کہیں اہم ہے
انسانی حقوق کی پاسداری کا نام نہاد علمبردار بھارت پیلٹ گن سےے کر ہا ئبرڈ وار فیئر تک ہر حربہ استعمال کر کے خود جینوا کنونشنز کی خلاف ورزی کر رہا ہے – کشمیر میں نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ جو اس بات کی کھلی اجازت دیتا ہے کہ کسی بھی فرد کو قتل کرنا، حراست میں لینا اور املاک کو تباہ کرنا جائز ہے-
عنبریں ترک کا کہنا تھا کہ
کشمیر پالیسی کا بنیادی ستون اقوامِ متحدہ کا منشور ہے لہذا
بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگنے کی بجائے بحثیت فریق مقبوضہ کشمیر سے متعلق پاکستان کے تحفظات کو دو ٹوک الفاظ میں تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بات کرنا ہو گی اور عالمی دنیا کو باور کرانا ہو گا کہ بھارت کی ہٹ دھرنی سے نا صرف جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ہے بلکہ بھارت کی ڈھٹائی کی وجہ سے جنگ ہونے کی صورت میں حوہری ہتھیاروں کے استعمال سے پوری دنیا خطرے کی لپیٹ میں آ سکتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں